اسد کے ساتھ 69 – Urdu Stories

لڑکوں کی ڈیڈنگ پیج پر اسد سے ہیلوہائے ہوا تھا۔۔۔۔ اس نے ہی مجھ سے ملنے کی درخواست کی تھی۔۔۔میں بھی بے تاب تھا اس سے ملنے کیلئے کیونکہ بہت عرصہ سے کیسی کے ساتھ رومنس نہیں کیا تھا۔۔۔ اس نے اپنا پتاکہ ڈبل روڈ پر بخاری بیکری کے سے ذرا آگے مسجد کے ساتھ والی گلی کے کونے پرمیرا انتظار کرنا۔۔۔۔ خیر مےں ڈرتے ڈرتے اس کے بتائے پتے پر پہنچا۔۔۔ میں دل میں یہی خیال کررہا تھا کہ کوئی میری طرح کا سیدھا سادا سمپل سا لڑکا ہوگا۔۔۔ میں وہ اپنی ڈیل ڈول والے لڑکے دیکھنے لگا۔۔۔ لیکن وہاں کسی کو میں نے اپنی طرف متوجہ نہیں دیکھا۔۔۔ میںنے اس کے بتا دیا تھا کہ میرے کندھے پر ایک چھوٹا سے کالا بیگ ہوگا۔۔۔ کچھ دیر کھڑے رہنے کے بعد میں نے واپسی کا ارادہ کیا ۔۔۔دل میں یہی سوچنے لگا کہ شائد کیسی نے مجھے بے وقوف بنایا ہے۔۔۔خیر جیسے ہی میں واپسی کیلئے موڑا کیسی نے مجھے آواز دی۔۔۔ عاطف تم ہو۔۔۔۔آواز نے میرے قدم روک لئے ۔۔۔ ۔ پیچھے مڑکر دیکھا تو ۔۔۔ ایک گورا چٹا خوبصور ت سے لڑکا میرے سامنے کھڑا تھا۔۔۔ میں تو اسے دیکھ کر ہی چکرا گیا۔۔۔میری سوچ سے بھی زیادہ خوبصورت تھا۔۔۔ میں کہا ۔۔۔ ہاںمیں ہی تو۔۔۔ او ر تم غالبا ۔۔۔اسدہو۔۔۔ کہنے لگا ہاں۔۔۔میں نے کہا ۔۔۔میں یہی سوچ رہا کہ کسی نے مجھے بے وقوف بنایا ہے اور میں واپس جانے ہی والا تھا۔۔۔۔ تمہاری آواز نے روک لیا۔۔۔اسد نے کہا دراصل جہاں تم کھڑے تھے وہاں اور بھی لوگ تھے ۔۔۔ اس لئے میںآگے نہیں آیا اور دور کھڑا ہوکر تمہیں ڈھونڈرہا تھا۔ جب تم واپسی کیلئے مڑے تو میںنے تمہارے کندھے پر بیگ دیکھ کر تمہیں پہچان لیا کہ تم ہی عاطف ہو۔۔۔۔اسد اصل میں خوبصورت تھا سلم باڈی گورا چٹا ۔۔۔ میری تو لاٹری ہی نکل آئے تھی۔۔۔ کہنے لگا چلیں میں نے کہا ۔۔۔ ہاں ضرور۔۔۔کدھر جانا ہے۔۔۔۔ کہنے لگا میرے ساتھ آﺅ۔۔۔۔اور میں اس کے ساتھ چلنے لگا کچھ دور چلنے کے بعد وہ ایک گلی میں موڑ گیا میں بھی اس کے ساتھ تھاگلی کے آخر مےں کچھ دکانےں تھےں اس نے کونے کی ایک دکان کے دروازے کا لاک کھولا اور مجھے اندر آنے کا کہ کر خود دکان مےںداخل ہوگیا ۔۔۔ مےں بھی اس کے پیچھے دکان مےں آگیا ۔۔۔ تھی تووہ دکان لیکن اس کو کمرے کی طور پر استعمال کیا جارہا تھا۔۔۔ دکان کے فرنٹ پر شیشے کا دروازہ لگا ہوا تھا اور اندر سے شیشوں پر پردے لگے ہوئے تھے یعنی باہر سے اندرکوئی نہیں دیکھ سکتا تھا۔۔۔ اندر ایک بستر بچھا ہوا تھا اور کچھ سامان بھی پڑا ہوا تھا ۔۔۔۔ اسدنے دکان کا دروازہ اندر سے لاک کردیا ۔۔۔ ہم دونوں بستر پر بیٹھ گئے ۔۔۔۔ میرے پوچھنے سے پہلے ہی اس نے بتانا شروع کردیا ۔۔۔ یہ دکان میرے دوست کی ہے دراصل وہ اس محلے مےں چوکیداری کرتا ہے اورد ن کو اس دکان مےں آرام کرتا ہے ۔۔۔میں نے کہا۔۔۔ اب کدھر ہے۔۔۔ کیا وہ بھی آئے گا۔۔۔۔ اس نے کہا نہیں وہ اپنے علاقہ گیا ہوا ۔۔۔ اس لئے میں نے اس سے دکان کی چابی لے لی تھی۔۔۔ وہ بھی ہماری طرح گانڈو ہے ۔۔۔ میں اور وہ اکثر اس دکان مےں ہی رومنس کرتے ہیں یعنی ایک دوسرے کو چودتے ہیں۔۔۔۔میں تو اسد کی خوبصورتی مےں ہی کھوگیا تھا ۔۔۔ اس کے گلابی ہونٹ کسی لڑکی سے کم نہ تھے۔۔۔ میںنے آگے بڑھ کر اس کوہونٹوں سے اپنے ہونٹ جوڑ دیئے۔۔۔ اسد بھی شاید اسی لمحے کے انتظار میں تھا ہم بہت دیر تک Kissing کرتے رہے ، اسکے گال کسی لڑکی سے کم نہ تھے۔ میںنے اس کے قمیض کے بٹن کھولے اور اس کے چیسٹ پر نپل چوسنے لگا،ہمارے ہاتھ ایک دوسرے کے پورے جسم پر پھر رہے تھے کافی دیر تک یہی سلسلہ چلتا رہا ۔۔۔ کبھی وہ نیچے ہوتھا اور کبھی میں ۔۔۔ پھر مےں اٹھا اور اپنے کپڑے اتاردیئے۔۔۔ وہ بھی اپنے کپڑے اتار چکا تھا۔۔۔ ہم دونوں پھر سے ایک دوسرے سے چمٹ کر kissing اورLikingکرنے لگے ۔۔۔ اس کے جسم پر بال نام کی کوئی چیز نہیں تھی ۔۔۔ میں اس کے پورا جسم چاٹنے لگا وہ اوپر سے نیچے تک دودھ کی طرح سفید تھا جسم پر کچھ مخصوص جگہوں پر بال تھے وہ بھی معمولی معمولی ،سنہرے رنگ مےں ریشم کی طرح نرم و ملائم ۔۔۔لڑکی کو بھی اس نے شرما لیا تھا۔۔۔ وہ بھی میرا جسم چاٹ رہا تھا ۔۔۔ا س کے کولہے صاف ستھرے اور دودھ کی طرح سفید تھے ۔۔۔گانڈ کا سوراخ (مقعد)کا رنگ بھی گلابی سرخ تھا میں تو زبان سے اس کو چاٹنے لگا ۔ اس کا ہتھیار(لنڈ ) مجھ سے بڑا اور موٹا تھا۔ پھر ہم ایک دوسرے سے 69کرنے لگے یعنی میں اس کے لنڈ کی Suking کرنے لگا اور وہ میرے لنڈ کی۔ہم دونوں فل مستی میں آگے تھے ۔۔۔ پھر اس نے کہا کہا۔۔۔۔ پہلے کون چودے گا تم یا میں۔۔۔۔ میں نے کہا ۔۔۔ جیسے تمہارے مرضی۔۔۔۔ اس وقت میں نیچے اور وہ اوپر تھا اس نے میری ٹانگیں اٹھائی میری گانڈ کے سوراخ( مقعد) پر کریم لگائی اور لنڈ میری گانڈ میں ڈال دیا۔۔۔ہلکی سی ۔۔۔گڑب ۔۔۔ کی آواز کے ساتھ ہی اس کا لنڈ میری گانڈ کے اندرتھا اس نے میری ٹانگیں اپنے کاندھوں پر رکھ کر جھٹکے(ڈرل) لگانا شروع کردیئے۔وہ تیز ی سے جھٹکے لگا رہا تھا اور ساتھ ساتھ میرے لنڈ کی مٹ بھی ماررہا تھا ۔۔۔میںنے اس کہا کہ اس کرنے سے منع کیا کہ نہ کروںمےں ڈسچارج ہوجاﺅنگا ۔۔۔ لیکن وہ نہ مانا ۔۔۔ اوروہی ہوا ۔۔۔ ایک جھٹکے سے میرے لنڈ سے منی نکلے اور اس کے منہ پر۔۔۔اس کے ساتھ ہی وہ میرے اندر ہی ڈس چارج ہوگیا۔۔۔ اس نے تو اپنا کام کرلیا تھا اور میں ڈسچارج ہوچکا تھا۔۔۔۔ اتنے میں کسی نے دکان کا دروازہ بجایا۔۔۔میں جلدی سے اٹھا اور دروازے کے پیچھے ہوگیا اس نے بھی جلدی سے کپڑے پہنے اور دروازے کی طرف بڑھا باہر کوئی کھڑا تھا اس نے پشتون میں اس سے بات کی اور واپس درواز ہ بند کرکے میرے پاس آگیا اور کہنے لگا۔۔۔۔ تمہارا تو کام ہوگیا میں رہ گیا تم کچھ کئے بغیر ہی ڈسچارج ہوگئے ہو۔۔۔میں نے کہا پھر شروع کریں ۔۔۔ اسد کہنے لگا۔۔۔ جیسے تمہاری مرضی اگر تم چاہو تو۔۔۔ اور ہم پھر برہنہ ہوکر دوبارہ رومنس کرنے لگا۔ وہ میرے لنڈ کی مالش کرنے لگا ۔ اور میں اس کی گانڈ کا سوراخ چاٹنے لگا اس کے گانڈ پر جو بال تھے وہ ریشم کی طرح نرم و ملائم تھے کچھ دیر بعد میرا لنڈ کھڑا ہوگیا اور میں نے اس کو نیچے لیٹاکر جیسے اس نے مجھ کو چودا تھا اس طرح اس کی گانڈمیں کریم لگا کر چودنے لگا میری اور کچھ دیر بعد میں اس کے اندر ہی فارغ ہوگیا۔۔۔ اور اس کے اوپر ہی لیٹ کر اس کے ہونٹوں سے Kissingکرنے لگا۔۔۔ اصل مےں بہت مزا آیا تھا ۔۔۔ ایک تو لڑکا خوبصورت اور سیکس کرنے کے طریقے سے پوری طرح واقف تھا۔دونوں نے بھر پور لطف اور وقت کا پورا پورا فائدہ اٹھایا تھا۔۔۔ کچھ دیر یونہی لیٹے رہے پھر اٹھ کر کپڑے پہنے ۔۔۔۔اور دکان سے باہر نکل آئے وہ مجھ کو وہی تک چھوڑنے آیا جہا ں مےں اس سے ملا تھا۔۔۔میں کہا دوبار ہ ملوں گے۔۔۔ کہنے لگا۔۔۔ سوچوں گا۔۔۔ وہ میں ایک بار سے زیادہ نہےں ملتا۔۔۔خیر میں وہاں سے رخصت ہوا ۔۔۔اور وہ اپنے گھر کی طرف آگیا ۔۔۔ اس کے بعد میں اس کو کافی بار فون کیا لیکن اس نے کوئی رپلائی نہ دیا نہ ہی میرے میسج کا جواب دیا ۔۔۔ میری عادت ہے جو دوست رپلائی نہ دے میں اس کو زیادہ تنگ نہےں کرتا۔۔۔لیکن یہ سچ ہے کہ میں آج بھی اسد کو بیت یاد کرتا ہوں اور خواہش ہے کہ وہ مجھ سے ملے اور ہم اسی طرح ایک دوسرے سے پیار کریں۔۔۔

پ،نیٹ پر اپنے مطلب کے دوست سرچ کرتا رہتا ہوں ، کبھی کبھار کسی سے مل لیتا ہوں لیکن مطمئن ہونے کے بعد ، کیونکہ زیادہ طرح لچر لوگ ہوتے ہے اور وہ صرف ٹائم پاس کرتے ہےں ،لیکن مجھے آج تک سیریس ہی لوگ ملے ہیں،کیونکہ میں ہر کسی سے نہیں ملتا جب تک اچھی طرح اطمنان نہ کرلو۔۔۔۔۔اس طرح ایک دوست سے ہیلو ہائے ہوئی ۔۔۔ سردار خان۔۔۔ نام تھا کافیعرصہ اسے سے چیت ہوتی رہی۔۔۔۔ پھر ہم دنوں نے موبائل نمبرز کا تبادلہ کیا۔۔۔ اکثر رات کے وقت وہ مجھ کو فون کرتا تھا۔۔۔۔ اور ہر بار ملاقات کیلئےاصرار کرتا۔۔۔ سبی شہر کا رہنے والا تھا۔۔۔ مجھ کو سبی آنے کی بھی دعوت دی تھی لیکن میں دوسرے شہر کا سفر نہیں کرتا۔۔۔ وہ اکثر ہمارے شھر آتا رہتا تھا۔۔۔ اور جب بھی شہر آتا مجھ سے ملنے کی درخواست کرتا تھا۔۔۔ لیکن میں نے پہلے بھی بتایا ہے کہ میں اچھی طرح مطمئن ہونے کے بعد لوگوں سے ملتا ہوں ۔۔۔ وہ اکثر فون پر کہتا کہ رات کو میرے ساتھ رہو ہوٹل میں ۔۔۔ میں یہ کر لونگا وہ کرلونگا۔۔۔تم ایک بار ملوں میں تمہیں حیران کردونگا ۔۔۔۔تمہاری ہر ضرورت پوری کرونگا۔۔۔۔وغیرہ وغیرہ۔۔۔ آخر کار میںنے اس سےملاقات کرنے کا فیصلہ کر ہی لیا۔۔۔ہمارے شہر پہنچنے کے بعد اس نے مجھ کو اطلاع دی کہ میں فلاں ہوٹل مےں ہوں ۔۔۔مل لو انجوائے کرینگے۔۔۔ اس کے دعوے اور ہتھیار کا سن سن کر میں بھی اس سے ملنے کو بے تاب تھا۔۔۔ اور کافی عرصہ کی چیٹ اور فون کال کی وجہ سے میں نے اندازہ کرلیا تھا کہ سیریس انسان ہے ۔۔۔ میں اسے دیکھنے کیلئے کہ وہ واقعی جیسے دعوے کررہا ہے ایسا ہی ہے یا صرف خالی خولی دعوے ہیکررہا ہے۔۔۔۔ میں مطلوبہ ہوٹل میں پہنچا۔۔۔۔(قصر ناز) تیسرے فلور میں اوپرچڑھنے کے بعد مطلوبہ کمرہ اسی کاتھا ۔۔۔۔ میں نے دروازہ پر دستگ دی تو وہ میرے ہی انتظا ر میں تھا۔۔۔۔ تقریب دوپہر کا وقت تھا۔۔۔۔ وہ اٹھ کر مجھ سے گلے ملا اور مجھ کو زور سے دبایا۔۔۔بات چیت کے دوران وہ مجھ کو ملسل دیکھ رہا تھا کہنے لگا اگر مجھ کو پتا چل جاتا کہ تم سمپل ہو تو میں تم سے نہ ملتا ۔۔۔میں جب یہ بات سنی تو اس سے اجازت چاہی ۔۔۔ اور جانے کے اٹھا اور دروازسے کی طرف بڑھا۔۔۔۔ مجھے غصہ اس بات کا تھا کہ میں اس کو پہلے ہی بتا دیا تھا کہ میں سمپل ہوں کیوٹ نہیں ہونے اس کے باوجود وہ مسلسل مجھ سے ملنے کی درخواست کررہا تھا اور آج نخرے کررہا تھا ۔۔۔۔ مجھ کو اٹھا دیکھ کر اس نے بڑھ کر میرا ہاتھ پکڑا اور مجھ کو اپنے پاس بیٹھا کر کہنے لگا ۔۔۔۔ یار تم تو ناراض ہوگئے ہو۔۔۔ میں مزاق کررہا تھا۔۔۔ اور پھر اس نے ادھر ادھر کی باتیں شروع کردیں۔۔۔ میری تعلیم کے بارے میں پوچھا۔۔۔ اور وعدہ کرنے لگا کہ تمہارے روزگار کیلئے میں سبی جاکر ضرور کوئی نہ کوئی بندوست کرونگا۔۔۔ فلاں منسٹر میرا کزن ہے ۔۔۔ فلاں ایم پی اے میرا دوست ہے وغیرہ وغیرہ اس دوران میں چائے آگئی اور ہم دونوں چائے پینے لگے ۔۔۔ چائے پینے کے بعد ہم دونوں ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔۔۔۔ وہ مجھ کو سکس کی دعوت دینے مےں ہچکچا رہا تھا میں نے ہی اس کو دعوت دی ۔۔۔ سردار خان اٹھا۔۔۔ کمرے کا دروازہ لاک کیا اور آکر دوبارہ بیڈ پر بیٹھ گیا ۔۔۔ اور شلوار کا ناڑہ کھول کر ۔۔۔۔ لنڈ باہر نکالا۔۔۔۔ واقعی اس کا لنڈ کافی بڑا تھا تقریبانو انچ کے قریب تھا ۔۔۔ میں اس کے قریب آیا ۔۔۔ اپنی شلوار اتاری اور اس کے بیڈ پر اس کے ساتھ لیٹ گیا ۔۔۔ وہ بھی میرے ساتھ لیٹ گیا اور اپنا ہاتھ میری گانڈ پر پھیرنے لگا۔۔۔ کبھی کبھی مجھ کو انگلی بھی کرتا اور مےں اس کے لنڈ کو اپنے ہاتھ مےں لیکر ٹٹولنے لگا اور اس کے ٹٹوں کو مسلنے لگا ۔۔۔ اس کے بعد میں نے اس کا لنڈ اپنے منہ میں لے لیا اور اس کی Suking کرنے لگا۔۔۔سردار کو اس بات کی توقع نہیں تھی۔۔۔۔ میں اپنے زبان اس کے لنڈ کے ٹوپے پر پھیرنے لگا۔۔۔ اسکے لنڈ کے سوراخ سے لیس دار ماہ باہر نکل رہا تھا اور اسکو زبان سے چاٹ لیتا۔۔۔۔اور ساتھ ساتھ اس کے ٹوپے کو زبان سے Liking کرتا رہا ۔۔۔ پھر آہستہ آہستہ اس کے لنڈ کے ٹوپے کو منہ میں لیکر اس پر زبان پھیرنے لگا۔۔۔اس کے منہ سے اُس ،ہو کی ہلکی ہلکی آواز نکل رہی تھیں۔۔۔۔ لیکن یہ کیا ۔۔۔۔ ابھی تک تو میں نے پورا لینڈ بھی منہ میں نہیں لیا تھا صرف ٹوپے کو چوس رہا تھا کہ وہ۔۔۔۔ڈسچارج ہونے لگا تھا۔۔۔۔ اور گرم گرم سپرم کے قطرے میرے منہ میں۔۔۔۔جیسے کسی نے انڈا توڑ کر میرے منہ میں انڈیل دیا ہو ۔۔۔ گرم گرم منی سے میرا منہ بھر گیا ۔۔۔۔میں نے جلدی سے منہ سے لنڈ نکلا ۔۔۔۔ منی قطروں کی صورت مےں بستر پر گرنے لگی۔۔۔۔سارا مزہ چوپٹ ہوگیا تھا۔۔۔سردار خان کا نو انچ کا لنڈ اب بچے کی نونوکی طرح لگ رہا تھا۔۔۔۔ساری سختی ختم ہوچکی تھی۔۔۔ کچھ دیر پہلے ہڈی کی طرح سخت لنڈ اب ربڑ کی طرح نرم ہوگیا تھا۔۔۔سردار تو آدھے گھنٹے کا کہہ رہا تھا لیکن یہاں تو دو منٹ مےں سردار خان کی ہوا نکل گئی تھی۔۔۔۔جو کچھ سوچ کر سردار خان سے ملنے آیا تھا۔۔۔۔ وہ سب کچھ ملیامیٹ ہوگیا تھا۔۔۔۔سردار کی مستی بھی ختم ہوچکی تھی۔۔۔ لیکن میں پورا مزہ لینے کے موڈ مےں تھا۔۔۔ بڑی دیر تک سردار خان کے نونو(لنڈ) سے کھیلتا رہا چوستا رہا۔۔۔ آخر کار ۔۔۔۔ سردار خان کے نونو(لنڈ) مےں پھر سختی آنا شروع ہوئی اور کچھ دیر بعد اس کے لنڈ دوبارہ سر اٹھائے کھڑا تھا ۔۔۔ لیکن وہ پہلے والی سختی اب اس میں نہیں تھی۔۔۔۔لنڈ چوس چوس کر میری دلچسپی اب بوریت مےں تبدیل ہونا شروع ہوگئی تھی۔۔۔۔بس اب میں چدواناچاہتا تھا۔۔۔۔میںنے لینڈ کو چوس کر خوب گیلا کیا ۔۔۔ اور گھوڑی بن گیا اور سردار خان سے کہنے لگا کہ ڈالواور جھٹکے لگاﺅ ۔۔۔۔جب بھی سردار میری گانڈ کے سوراخ میں لنڈ ڈالنے کی کوشش کرتا وہ نرم ہونے کی وجہ سے ٹیڑھا ہوجاتا ۔۔۔ اور پھر وہی ہوا ۔۔۔۔ یعنی سردار خان صاحب میری گانڈ کے اوپر ہی دوبارہ ڈسچارج ہوگئے اور اس کے لنڈ سے منی کی ایک دھار میرے گانڈ کے سوراخ پر گرنے لگی ۔۔۔۔ سردار بے سدھ ہو کر میرے اوپر ہی لیٹ گیا۔۔۔۔کچھ دیر بعد ایسی طرح وہ پڑا رہا ۔۔۔ ۔پھر ہم ایک دوسرے سے علیحدہ ہوئے ۔۔۔ میں اٹھا باتھ روم گیا اپنے جسم پر لگے اس کی منی کو صاف کیا ۔۔۔آکر کپڑے پہنے ۔۔۔۔ سردار ویسے ہی بیڈ پر لیٹا ہوا تھا ۔۔۔۔میں بھی بے زار ہوگیا تھا ۔۔۔ اس سے اجازت لی اور ہوٹل سے نکل آیا۔۔۔۔ اس کے بعد سردار خان سے نہ دوبارہ ملا اور نہ ہی اس بے شرم نے مجھ کو دوبارہ فون کیا۔۔ ۔ایک دوبار میں نے ہی اس کو کرکے خوب عزت دی۔۔۔۔مطلب آپ سمجھ گئے ہونگے۔۔۔ سچ کہتے ہےں اونچی دکان پھیکا پکوان۔۔۔ اور آج یہ مثل بالکل ثابت ہوئی تھی۔۔۔



Leave a Comment