دل کی چاہت اور جسم کی آگ

احمد کا نام احمد تھا۔ اس کا لنڈ نو انچ لمبا، تین انچ موٹا اور ٹوپہ ایک انچ موٹا تھا۔ وہ ایک خوبصورت، طاقتور جسم والا نوجوان تھا جو دبئی میں بزنس کرتا تھا۔ لیکن اس کے دل میں صرف ایک ہی عورت بستی تھی — اس کی خالہ زاد بہن سارہ۔ سارہ بہت حسین تھی۔ گوری رنگت، لمبی کالی زلفیں، بڑی بھوری آنکھیں، نرم ہونٹ، بڑے گول ممے اور بھری ہوئی گانڈ۔ جب بھی احمد اسے دیکھتا، اس کا دل دھڑک اٹھتا۔ مگر سارہ ہمیشہ اسے “بھائی” کہتی تھی، اس لیے احمد نے کبھی اپنا راز نہیں کھولا۔

سارہ کی شادی ہوئی تو احمد کا دل ٹوٹ گیا۔ دلہن کے لباس میں سارہ اتنی خوبصورت لگ رہی تھی کہ احمد کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ سرخ جوڑا، زیور، makeup — سب کچھ اسے دیوی بنا رہا تھا۔ رخصتی کے وقت جب سارہ کار میں بیٹھی تو احمد نے دل ہی دل میں سوچا، “کاش یہ میری ہوتی۔”

شادی کے تین ماہ بعد احمد سارہ کے گھر گیا۔ سارہ نے دروازہ کھولا تو اس کے چہرے پر خوشی چمک اٹھی۔ “بھائی آ گئے!” دونوں نے گھنٹوں باتیں کیں۔ چائے، سموسے، یادیں۔ آخر کار احمد نے ہمت جمع کی۔

“سارہ، میں تم سے بہت پیار کرتا تھا۔ مگر تم مجھے بھائی کہتی تھیں اس لیے کہہ نہ پایا۔” سارہ حیران سی اسے دیکھتی رہی۔ اس کی آنکھیں شرم سے جھک گئیں۔ احمد نے آگے بڑھ کر اس کے ہونٹوں پر ہلکا سا بوسہ دیا۔ “سوری اگر برا لگا۔” سارہ نے مسکراتے ہوئے کہا، “ایک بار تو بتا دیتے۔ تمہاری بات بہت اچھی لگی۔ واپس آؤ تو ہمارے پاس رہنا۔”

احمد اسی رات دبئی چلا گیا۔ وہاں اس نے تین ماہ میں اپنا بزنس شروع کیا۔ امارات میں رئیل اسٹیٹ کا کام بہت چل نکلا۔ وہ امیر ہو گیا۔ خوبصورت لڑکیوں کے ساتھ راتیں گزارتا، مگر ہر رات سارہ کا خیال اسے ستاتا۔ وہ ہر ماہ سارہ کو ایک لاکھ روپے بھیجتا، مہنگے تحائف — ڈریس، پرفیوم، موبائل۔ فون پر گھنٹوں باتیں کرتے۔

سارہ کے دو بچے ہوئے — ایک بیٹا فیصل اور ایک بیٹی۔ پھر اچانک سارہ کے شوہر کا دل کا دورہ پڑا اور وہ مر گیا۔ سارہ روتے ہوئے فون پر احمد کو بتایا۔ احمد فوراً پاکستان پہنچ گیا۔ سارہ نے اسے گلے لگا کر خوب رویا۔

چار ماہ بعد احمد دوبارہ آیا۔ سارہ نے اسے اوپر والا کمرہ دیا۔ رات کو گیارہ بجے سارہ آئی۔ سفید نائٹی میں اس کا جسم چمک رہا تھا۔ “کیا تم اب بھی مجھ سے محبت کرتے ہو احمد؟” “ہاں سارہ، اب بھی پاگل ہوں تمہارے لیے۔”

سارہ نے آگے بڑھ کر اس کے ہونٹ چوم لیے۔ دونوں کے ہونٹ ایک دوسرے میں گھل گئے۔ زبانیں باہر نکلیں، ایک دوسرے کو چوسنے لگیں۔ سارہ کی سانس گرم ہو رہی تھی۔ اس نے اپنی نائٹی اتار پھینک دی۔ اس کے بڑے، گول، دودھ جیسے ممے سامنے تھے۔ سرخ چوچیاں کھڑی تھیں۔ احمد نے ایک ممے منہ میں لے کر خوب چوسا۔ دوسرے کو دباتا رہا۔ سارہ کراہ رہی تھی، “آہhh… احمد… بہت دن ہو گئے تھے…”

سارہ نے احمد کی شرٹ اتاری، اس کے سینے پر بوسے کیے، نیچے اتری۔ چڑی اتاری تو نو انچ کا موٹا لنڈ باہر نکل آیا۔ سارہ کی آنکھیں پھیل گئیں۔ “واہ! یہ تو بہت موٹا ہے۔ کہیں میری چوت پھاڑ نہ دے۔” “تم نے شوہر کا بھی لیا ہے نا، یہ بھی لے لو گی۔”

سارہ نے ٹوپے پر زبان پھیرنی شروع کی۔ پھر پورا لنڈ منہ میں لے کر چوپے مارنے لگی۔ “ممم… بہت مزہ آ رہا ہے۔ تمہارا لنڈ بہت پیارا ہے۔” وہ گہرائی تک لے جا رہی تھی، تھوک سے چکنا کر رہی تھی۔ احمد کے ہاتھ اس کے بالوں میں تھے۔

پھر احمد نے سارہ کو لیٹا دیا۔ اس کی ٹانگیں پھیلائیں۔ چوت بالکل گلابی، صاف، چھوٹی سی تھی۔ وہ چومنے لگا، چاٹنے لگا، چوچی کو دانتوں سے ہلکا کاٹتا۔ سارہ کی چیخیں نکل رہی تھیں، “آہhh… احمد… چاٹو… اور چاٹو… میں پاگل ہو رہی ہوں!”

احمد نے لنڈ چوت پر رکھا۔ دبایا تو نہ جا رہا تھا۔ سارہ نے اپنے ہاتھ سے لنڈ پکڑا اور جھٹکا دیا۔ “آہhhh!” پورا لنڈ اندر چلا گیا۔ سارہ کی آنکھیں بند ہو گئیں۔ “اب مزہ آئے گا بھائی…”

دونوں مست ہو گئے۔ پہلے سلو، پھر تیز۔ احمد اوپر، سارہ نیچے۔ پھر ڈاگی اسٹائل۔ سارہ کی گانڈ پکڑ کر زور زور سے ٹھونکتا۔ سارہ کی چوت سے پانی نکل رہا تھا۔ وہ چیخ رہی تھی، “اور تیز… اور گہرا… مارو مجھے… تمہاری ہو گئی ہوں!”

صبح ہونے تک وہ تین بار چود چکے تھے۔ سارہ تھک کر احمد کے سینے پر سو گئی۔

اس کے بعد احمد ہر ڈیڑھ ماہ بعد آتا۔ ایک مہینہ رہتا۔ دن بھر بچوں کے ساتھ، رات بھر سارہ کے ساتھ چدائی۔ سارہ کے بچے اسے “ماموں” کہتے۔

فیصل جوان ہو گیا۔ سارہ نے کہا، “بیٹے کی شادی کرو، دلہن تمہاری پسند کی ہوگی۔” دونوں لڑکیاں دیکھتے رہے۔ بیس دن لگے۔ آخر ایک دن نادیہ ملی۔

نادیہ بہت خوبصورت تھی — ۲۲ سال، لمبی، بڑے ممے، بھری ہوئی گانڈ، گلابی ہونٹ، چھوٹی کمر۔ احمد نے دیکھتے ہی سوچ لیا، “یہ تو میری بھی ہو جائے گی۔” فیصل نے بھی پسند کر لی۔ شادی ہو گئی۔

نادیہ کے بیٹے کی پیدائش پر احمد آیا۔ ایک مہینہ رہا۔ اب اس کا دل نادیہ کی طرف بھی تھا۔ وہ اس سے نظریں ملاتا، ہاتھ لگاتا۔ نادیہ شرماتی مگر خاموش رہتی۔

ایک صبح سارہ ناشتہ بنانے گئی تو نادیہ چائے لے کر آئی۔ احمد نے جان بوجھ کر لنڈ باہر نکال رکھا تھا۔ نادیہ لنڈ دیکھ کر کھڑی رہ گئی۔ ہاتھ بڑھاتی، ہٹاتی۔ پھر شرما کر چلی گئی۔

دوپہر کھانے پر احمد نے میز کے نیچے پاؤں سے نادیہ کی چوت سہلائی۔ نادیہ کی سانس بھاری ہو گئی۔

رات کو ایک بجے نادیہ آئی۔ فل میک اپ، بلیک سیکسی نائٹی۔ جسم صاف نظر آ رہا تھا۔ وہ احمد پر چڑھ گئی، چومنے لگی۔ نائٹی اتاری۔ اس کا ننگا جسم — بڑے سفید ممے، گلابی چوچیاں، صاف چوت۔

احمد نے اسے چوما، مموں کو دبایا، چوسا۔ نادیہ لنڈ تک اتری۔ “واہ ماموں! اتنا موٹا اور لمبا!” اس نے لنڈ کو خوب چوما، چاٹا، گہرائی تک منہ میں لیا۔

سارہ نے چکنی کریم لگائی۔ نادیہ نے لنڈ پر بیٹھ کر جھٹکا دیا۔ “آہhhh… پھٹ رہی ہوں… مگر مزہ بھی آ رہا ہے!” وہ اوپر نیچے ہو رہی تھی۔ احمد نیچے سے ٹھونک رہا تھا۔ صبح تک دونوں پاگل رہے۔

اب روٹین بن گیا — ایک رات سارہ، ایک رات نادیہ۔

ایک دن نادیہ نے کہا، “میں جانتی ہوں آپ ساس کے ساتھ کرتے ہیں۔ مجھے بھی شامل کر لو۔ تینوں مل کر کریں۔”

ایک رات سارہ احمد پر سوار تھی، زور زور سے چدائی کر رہی تھی۔ نادیہ اندر آ گئی۔ سارہ گھبرائی۔ نادیہ مسکرائی، “ساسو ماں ڈرو مت۔ میں بھی لنڈ لینے آئی ہوں۔ مل کر مزہ کریں۔”

سارہ نے بھی ہامی بھر لی۔ احمد کے سامنے دونوں ننگی کھڑی تھیں۔ ایک طرف سارہ کی بالغ، تجربہ کار چوت، دوسری طرف نادیہ کی تنگ، جوان چوت۔

احمد نے پہلے سارہ کو چودا، پھر نادیہ کو۔ پھر دونوں کو ایک ساتھ۔ ایک ممہ سارہ کا منہ میں، دوسرا نادیہ کا۔ دونوں کی چوتوں میں باری باری لنڈ ڈالتا۔ وہ دونوں کو الٹ پلٹ کرتا رہا۔ گانڈ مارتا، چوت چوستا۔ ساری رات تینوں مست رہے۔ نادیہ چیخ رہی تھی، “ماموں… دونوں چوتوں کو بھر دو… ہم دونوں آپ کی غلام ہیں!”

اب احمد پاکستان ہی رہ گیا۔ سارہ سے شادی کر لی۔ دونوں اس کی بیویاں بن گئیں۔

ایک رات نادیہ نے فیصل کو بھی شامل کیا۔ “تم دونوں مجھے مل کر چودو۔” فیصل نے پہلے انکار کیا مگر نادیہ نے دو دن چدائی بند کر دی تو مان گیا۔

رات کو تانیہ ننگی لیٹی تھی۔ احمد اور فیصل دونوں نے اسے چوما۔ نادیہ نے دونوں لنڈ ایک ساتھ اپنی چوت میں لیے۔ “آہhhh… دونوں موٹے لنڈ… پھاڑ دو مجھے!” صبح تک تینوں نے اسے مست کیا۔

سارہ حاملہ ہوئی، بیٹی ہوئی۔ نادیہ بھی حاملہ ہوئی۔ جب نادیہ دودھ پلاتی تو احمد آ جاتا۔ “دودھ پلا دو مجھے بھی۔” وہ نادیہ کے مموں کا دودھ پیتا، چوستا۔ پھر گانڈ مارتا۔ نادیہ کراہتی، “پی لو سارا دودھ… پھر میری گانڈ بھر دو…”

دونوں عورتیں — سارہ اور نادیہ — احمد کی کامل دیوانی ہو چکی تھیں۔ وہ دن رات اس کی خواہش پوری کرتیں۔ احمد تینوں (سارہ، نادیہ، اور کبھی فیصل کے ساتھ) کے ساتھ پرلطف زندگی گزار رہا تھا۔

گھر میں ہر رات چدائی کی آوازیں گونجتیں۔ مموں چوسنے کی آوازیں، چوت چودنے کی تھپکیاں، کراہیں۔ احمد خوش تھا۔ اس کی دونوں مست گھوڑیاں اس کی خدمت میں ہمیشہ حاضر رہتیں۔

کہانی کا اختتام احمد نے اپنی زندگی پیار، جنس اور خوشی سے بھر دی۔ سارہ اور نادیہ دونوں اس کی جان تھیں۔ وہ تینوں (اور کبھی چاروں) مل کر ہر رات نئی نئی جگہوں پر، نئی نئی پوزیشنوں میں، لامتناہی چدائی کرتے رہتے۔ دل کی چاہت اور جسم کی آگ کبھی نہیں بجھی۔



Leave a Comment