میرا نام یاسر ہے۔ میں راولپنڈی کے ایک پرسکون محلے میں رہتا ہوں۔ عمر اٹھارہ سال، انٹر کا طالب علم، جسم مضبوط اور لنڈ نو انچ لمبا، تین انچ موٹا، ٹوپہ ایک انچ موٹا۔ آج میں آپ کو وہ دل دہلا دینے والی کہانی سناتا ہوں جس نے میری زندگی بدل دی — کیسے میں نے اپنی سگی پھپھو اعظمہ کی پھدی زبردستی چودی تھی۔
اعظمہ پھپھو میری ابو کی سب سے بڑی بہن تھیں۔ عمر چھببیس سال، ایم اے انگریزی کی طالبہ۔ گوری چٹی رنگت، لمبی کالی زلفیں، بڑی بھوری آنکھیں، نرم گلابی ہونٹ، بھرے ہوئے بڑے گول ممے، چھوٹی کمر اور باہر ابھری ہوئی موٹی، سفید گانڈ۔ وہ باہر نکلتے وقت ہمیشہ نقاب کرتی تھیں، مگر ان کا جسم اتنا کشش والا تھا کہ لوگ نظریں نہیں ہٹا پاتے تھے۔
ایک دن شام کو میں سکول سے واپس آ رہا تھا تو دیکھا کہ اعظمہ پھپھو ہمارے محلے کے بدنام لڑکے عرفان کے ساتھ موٹر سائیکل پر بیٹھی جا رہی ہیں۔ عرفان محلے کا شرابی اور چھینٹا لڑکا تھا۔ مجھے بہت برا لگا۔ کچھ دن بعد کالج کے وقت پھر وہی منظر۔ میں نے خاموشی سے پیچھا کیا۔ عرفان اعظمہ پھپھو کو محلے سے باہر ایک خالی پرانے مکان میں لے گیا۔ چار گھنٹے بعد دونوں باہر نکلے۔ اعظمہ کا چہرہ سرخ، بال بکھرے ہوئے، نقاب ٹھیک سے نہیں لگا ہوا تھا۔ میں سمجھ گیا کہ میری پھپھو ایک بڑی گشتی بن چکی ہے۔
گھر آکر میں نے غصے اور جوش میں اعظمہ پھپھو کے نام کی زور زور سے مٹھ ماری۔ اس کی موٹی گانڈ، بڑے ممے اور چوت کا خیال میرے دماغ میں گھومتا رہا۔ میں نے دل میں ٹھان لیا — جو پھدی باہر والوں کو دے رہی ہے، وہ گھر میں اپنے بھتیجے کو کیوں نہیں دے گی؟
ایک دن گھر بالکل خالی تھا۔ ابو آفس گئے ہوئے تھے، امی مارکیٹ گئی ہوئی تھیں۔ اعظمہ پھپھو نے مجھے کھانا دیا اور بولی، “یاسر بیٹا، میں تھوڑی دیر سو لوں گی۔ تم کھانا کھا لو، شام کو سب آ جائیں گے۔”
میں نے کھانا کھایا مگر میرا دماغ پھپھو کی چوت اور مموں میں گھوم رہا تھا۔ کھانے کے بعد میں آہستہ سے ان کے کمرے میں چلا گیا۔ جو منظر دیکھا، میرا لنڈ فوراً پتھر بن گیا۔
اعظمہ پھپھو پیٹ کے بل سو رہی تھیں۔ قمیض کمر تک اوپر چڑھی ہوئی تھی اور شلوار نیچے کھسک کر ان کی موٹی، گول، سفید گانڈ بالکل ننگی باہر تھی۔ میں نے دور سے ہی لنڈ نکال کر ہلانا شروع کر دیا۔ پھر آہستہ آہستہ قریب گیا۔ وہ بے حس سو رہی تھیں۔
میں نے انگلی ان کی گانڈ کی درمیانی لائن پر پھیرنی شروع کی۔ تھوڑی دیر بعد وہ سیدھی ہو گئیں۔ قمیض اور بھی اوپر ہو گئی۔ میں نے ہاتھ بڑھا کر شلوار کے اوپر سے ہی ان کی پھدی کو سہلانا شروع کر دیا۔
اچانک اعظمہ اٹھ کر بیٹھ گئیں۔ “یاسر! تم یہاں کیا کر رہے ہو؟” ان کی نظر میرے کھڑے، موٹے لنڈ پر پڑی۔ غصے سے انہوں نے مجھے زور کا تھپڑ مارا۔
میں نے بے شرمی سے کہا، “پھپھو، مجھے تمہاری پھدی چودنی ہے۔ عرفان کے ساتھ چار چار گھنٹے چدوانے کا وقت ہے تو بھتیجے کو کیوں نہیں دے سکتی؟”
اعظمہ اٹھ کر بھاگنے لگیں۔ میں نے انہیں چارپائی پر دھکا دے کر گرا دیا اور اوپر چڑھ گیا۔ وہ مجھے دھکا دے رہی تھیں، چیخ رہی تھیں۔ میں نے ان کی شلوار کا لاسٹک پکڑ کر زور سے کھینچا۔ شلوار فوراً نیچے اتر گئی۔
“یاسر! میں سب کو بتا دوں گی!” وہ چیخ رہی تھیں۔ “بتا دو، میں بھی تمہارا اور عرفان کا پورا چکر بتا دوں گا۔”
اعظمہ نے شلوار اوپر کرنے کی کوشش کی تو میں نے اور زور سے کھینچی۔ شلوار پھٹ گئی۔ اب وہ صرف قمیض میں تھیں۔ میں نے ان کے پاؤں زور سے پھیلائے اور منہ ان کی چوت پر رکھ دیا۔
ان کی چوت پر کافی بال تھے۔ میں نے چاٹنا شروع کر دیا۔ اعظمہ رو رہی تھیں، میرے سر کو ہٹانے کی کوشش کر رہی تھیں۔ “یاسر یہ غلط ہے… میں تیری پھپھو ہوں… محرم ہوں…”
مگر میں نے ان کی پھدی کو اپنے ہونٹوں میں جکڑ رکھا تھا۔ زبان اندر تک ڈال کر چاٹ رہا تھا۔ تھوڑی دیر بعد ان کی چوت سے گرم، نمکین رس نکلنے لگا۔ ان کا جسم لرز رہا تھا۔ میں نے ساتھ ہی ان کے بڑے مموں کو قمیض کے اوپر سے زور زور سے دبانا شروع کر دیا۔
اب میرا لنڈ بہت سخت ہو چکا تھا۔ میں نے ان کی ٹانگیں کندھوں پر رکھیں اور لنڈ کا ٹوپہ ان کی چوت کے سوراخ پر رکھا۔
“یاسر! مت کرو… یہ گناہ ہے… آہhhh!”
“گناہ تو تم عرفان کے ساتھ کر چکی ہو۔ اب بھتیجے کا حق ہے۔”
یہ کہہ کر میں نے ایک زور دار جھٹکا مارا۔ “آہhhhhhh!” پورا نو انچ کا موٹا لنڈ اعظمہ پھپھو کی گرم، نم اور کھلی ہوئی پھدی میں گھس گیا۔ کیونکہ وہ روز چدائی کروا رہی تھیں، زیادہ درد نہ ہوا۔
میں نے تیز تیز جھٹکے مارنے شروع کر دیے۔ اعظمہ کی مزاحمت اب کم ہو چکی تھی۔ ان کی سانس بھاری ہو رہی تھی۔ میں نے ان کی قمیض اوپر کی، برا اتارا۔ بڑے سفید ممے باہر آ گئے۔ سرخ چوچیاں کھڑی تھیں۔ میں نے ایک چوچی منہ میں لے کر چوستے ہوئے پورا زور لگا کر چودنا جاری رکھا۔
“آہ… آہ… یاسر… سلو… اوہhh…”
اب وہ کراہ رہی تھیں۔ میں نے رفتار اور تیز کر دی۔ کمرے میں “چپ چپ چپ” کی آوازیں گونج رہی تھیں۔ اعظمہ کی چوت پوری طرح گیلی ہو چکی تھی۔ وہ اپنی گانڈ اوپر اٹھا اٹھا کر جواب دے رہی تھیں۔
“پھپھو، عرفان سے زیادہ مزہ آ رہا ہے نا؟” میں نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
اعظمہ نے کوئی جواب نہ دیا، صرف کراہیں نکال رہی تھیں۔ آخر کار میں نے اپنی گرم منی ان کی چوت کے اندر پھینک دی۔ جھٹکے لگتے رہے۔
میں ان کے اوپر ہی لیٹ گیا، لنڈ اندر ہی رکھا۔ اعظمہ نے آنسوؤں بھری آنکھوں سے مجھے تھپڑ مارا اور باتھ روم چلی گئیں۔
باہر آ کر بولیں، “میں تیری ماں کو بتا دوں گی۔” “بتا دو۔ میں بھی تمہارا اور عرفان کا پورا راز کھول دوں گا۔”
وہ چپ ہو گئیں۔
میں نے کہا، “اب جب بھی عرفان سے چدوانے جاؤ گی تو مجھ سے بھی چدوانا پڑے گا۔”
اعظمہ نے سر جھکا لیا۔ پھر ہلکے سے مسکرا دیں۔ “تم نے تو میری چوت بھر دی ہے…”
اس دن کے بعد اعظمہ پھپھو میری غلام بن گئیں۔ جب بھی دل کرتا، وہ خود میرے پاس آ جاتیں۔ کبھی کبھی عرفان کے ساتھ چدائی کر کے آتیں تو میں انہیں دوبارہ، زیادہ زور سے چودتا۔
یک دن شام کے چار بجے میں سکول سے واپس آ رہا تھا۔ محلے کی گلی میں دیکھا کہ اعظمہ پھپھو عرفان کے ساتھ بلیک ہونڈا موٹر سائیکل پر بیٹھی جا رہی ہیں۔ عرفان ۲۸ سال کا بدنام لڑکا تھا — شرابی، مار پیٹ کرنے والا، محلے میں سب جانتے تھے کہ وہ لڑکیوں کو پھساتا ہے۔ مجھے دل پر چوٹ لگی۔
تین دن بعد میں نے کالج ٹائم میں پھر ان دونوں کو دیکھا۔ میں نے خاموشی سے رکشہ کر کے پیچھا کیا۔ عرفان اعظمہ پھپھو کو محلے سے باہر والے پرانے، خالی گھر میں لے گیا۔ میں باہر دیوار کے پیچھے چھپ کر بیٹھا رہا۔ چار گھنٹے بعد جب دونوں باہر نکلے تو اعظمہ کا چہرہ سرخ تھا، نقاب بے ترتیب، بال بکھرے ہوئے، شلوار پر دھبے، چال لڑکھڑا رہی تھی۔ میں نے سب کچھ سمجھ لیا۔ میری پھپھو باہر چدائی کروا رہی ہے۔
گھر آ کر میں نے غصے اور جوش میں اعظمہ پھپھو کے نام کی تین بار مٹھ ماری۔ ان کی موٹی گانڈ، بڑے ممے، گلابی چوت — سب خیالوں میں گھوم رہے تھے۔ میں نے فیصلہ کر لیا: اب یہ پھدی مجھے ملنی چاہیے۔
وہ دن جس نے سب بدل دیا
جمعہ کا دن تھا۔ ابو آفس گئے، امی بہن کے گھر گئی ہوئی تھیں۔ گھر میں صرف میں اور اعظمہ پھپھو تھے۔ انہوں نے مجھے کھانا دیا — روٹی، قورمہ، سلاد۔ کھاتے ہوئے بھی میرا ذہن ان کی چوت میں تھا۔
کھانے کے بعد اعظمہ بولیں، “یاسر بیٹا، میں تھوڑی دیر سو لوں گی۔ بہت تھک گئی ہوں۔ تم آرام کر لو۔”
وہ اپنے کمرے میں چلی گئیں۔ میں نے ۱۵ منٹ انتظار کیا، پھر آہستہ سے ان کے کمرے کا دروازہ کھولا۔
منظر بہت حیران کن تھا
اعظمہ پیٹ کے بل لیٹی ہوئی تھیں۔ قمیض بالکل کمر کے اوپر چڑھی ہوئی تھی۔ تنگ سفید شلوار نیچے کھسک کر ان کی موٹی، گول، چمکدار سفید گانڈ بالکل ننگی باہر تھی۔ گانڈ کے درمیان گہری لائن صاف نظر آ رہی تھی۔ ٹانگیں تھوڑی سی پھیلی ہوئی تھیں۔ وہ گہری نیند میں تھیں۔
میرا لنڈ فوراً پتھر بن گیا۔ میں نے پتلون اتاری، لنڈ باہر نکالا اور دور سے ہی ہلانے لگا۔ پھر آہستہ آہستہ قریب گیا۔ ان کی گانڈ کی خوشبو آ رہی تھی — ہلکا سا پسینہ اور عورت کی مہک۔
میں نے انگلی ان کی گانڈ کی درمیانی لائن پر رکھی اور آہستہ آہستہ اوپر نیچے پھیرنے لگا۔ اعظمہ ہلکی سی کراہ اٹھیں مگر جاگ نہ سکیں۔ میں نے ہمت بڑھائی اور شلوار کے اوپر سے ان کی پھدی کو ہاتھ سے دبانے لگا۔
اچانک اعظمہ اٹھ کر بیٹھ گئیں۔ آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ “یاسر! تم یہاں کیا کر رہے ہو؟ حرامزادے!”
ان کی نظر میرے کھڑے، موٹے، رگوں والے لنڈ پر پڑی۔ غصے سے انہوں نے مجھے زور کا تھپڑ مارا۔ میرا گال سرخ ہو گیا۔
میں نے بے شرمی سے کہا، “پھپھو، مجھے تمہاری پھدی چودنی ہے۔ عرفان کے ساتھ چار چار گھنٹے چدوانے کا وقت ملتا ہے تو بھتیجے کو کیوں نہیں دے سکتی؟”
اعظمہ اٹھ کر بھاگنے لگیں۔ میں نے ان کا ہاتھ پکڑا، زور سے کھینچا اور چارپائی پر گرا دیا۔ پھر ان کے اوپر چڑھ گیا۔ وہ مجھے دھکا دے رہی تھیں، ناخن گاڑ رہی تھیں، رو رہی تھیں۔
“چھوڑ دے مجھے! میں تیری پھپھو ہوں! محرم ہوں!”
میں نے ان کی شلوار کا لاسٹک پکڑ کر زور سے کھینچا۔ شلوار گھٹنوں تک اتر گئی۔ اعظمہ نے پھر اوپر کرنے کی کوشش کی تو میں نے اور زور لگایا۔ شلوار کا لاسٹک پھٹ گیا۔ اب وہ صرف قمیض میں تھیں۔
میں نے ان کے دونوں پاؤں زور سے پھیلائے اور منہ ان کی چوت پر رکھ دیا۔ ان کی چوت پر گھنے بال تھے، مگر گرم تھی۔ میں نے زبان باہر نکال کر چاٹنا شروع کر دیا — اوپر سے نیچے، چوٹی کو چوستا، اندر زبان ڈالتا۔
اعظمہ چیخ رہی تھیں، “آہhhh… یاسر چھوڑ دے… یہ گناہ ہے… رو رہی ہوں میں…”
مگر میں نے ان کی چوت کو مضبوطی سے ہونٹوں میں پکڑ رکھا تھا۔ زبان اندر باہر کرتا رہا۔ ۴-۵ منٹ بعد ان کی چوت سے گرم، نمکین رس نکلنے لگا۔ ان کا جسم لرز رہا تھا۔
میں نے ان کی قمیض اوپر کی، برا اتار دیا۔ بڑے بھرے ممے باہر آ گئے — سفید، نرم، سرخ چوچیاں کھڑی۔ میں نے ایک ممہ منہ میں لے کر خوب چوسا، دوسرے کو ہاتھ سے دباتا رہا۔
اب میرا لنڈ بہت سخت تھا۔ میں نے ان کی ٹانگیں موڑ کر کندھوں پر رکھیں، لنڈ کا موٹا ٹوپہ ان کی چوت کے سوراخ پر رکھا اور…
ایک زور دار جھٹکا!
“آہhhhhhhhhhh!” اعظمہ کی چیخ نکل گئی۔ پورا ۹ انچ لنڈ ایک ہی دھکے میں ان کی گرم، نم پھدی میں گھس گیا۔
میں نے فوراً تیز تیز جھٹکے مارنے شروع کر دیے۔ “چپ چپ چپ” کی آواز پورے کمرے میں گونج رہی تھی۔ اعظمہ اب مزاحمت کم کر چکی تھیں۔ ان کی آنکھیں بند، منہ کھلا، کراہیں نکل رہی تھیں۔
“آہ… آہ… یاسر… سلو… اوہhh… گہرا مت…”
میں نے اور تیز کیا۔ ممے چوستا، گانڈ تھپتھپاتا، پورا لنڈ باہر نکال کر پھر پورا اندر ٹھونکتا۔ ۱۵ منٹ بعد اعظمہ کی چوت سکڑی اور انہوں نے پہلا پانی چھوڑ دیا۔
میں نے رفتار تیز کی اور آخر کار اپنی گرم، گاڑھی منی ان کی چوت کے اندر پھینک دی۔ جھٹکے لگتے رہے۔
میں ان کے اوپر ہی لیٹ گیا، لنڈ اندر رکھا۔ اعظمہ نے روتے ہوئے مجھے تھپڑ مارا اور باتھ روم بھاگ گئیں۔
باہر آ کر بولیں، “میں تیری ماں کو سب بتا دوں گی۔” میں مسکرایا، “بتا دو۔ میں بھی عرفان کے ساتھ تمہارا چار گھنٹے والا سین بتا دوں گا۔”
وہ چپ ہو گئیں۔